گرفتار افراد کے حقوق کا بل سینیٹ سے منظور

سینیٹ نے ایک اہم قانون منظور کیا ہے جس کا مقصد زیر حراست افراد کے حقوق کو مضبوط اور واضح بنانا ہے۔ اس نئے قانون کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جب بھی کوئی شخص گرفتار ہو یا تفتیش کے دوران حراست میں ہو تو اسے بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جائیں۔ یہ بل ملک میں انصاف کے بہتر نظام کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
بل پیش کرنے والے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہر ملزم کو دوران حراست مکمل حقوق ملنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون میں واضح طور پر درج ہے کہ جس شخص کو گرفتار کیا جائے، اسے تحریری طور پر اس کی گرفتاری کی وجہ بتائی جائے۔ ساتھ ہی اسے گھر والوں سے رابطے اور ضروری معلومات دینے کا حق بھی حاصل ہوگا۔
بل کے مطابق ہر زیر حراست فرد کو کھانا، ادویات اور اپنی مرضی کے وکیل تک رسائی ملے گی۔ اس کے علاوہ گرفتار شخص کو یہ اجازت بھی ہوگی کہ وہ اپنے وکیل سے تنہائی میں بات کر سکے۔ بل میں یہ بات بھی شامل ہے کہ زیر حراست فرد کو اپنے گھر والوں، ڈاکٹر اور مذہبی رہنما سے ملاقات کا حق دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کا چھ روزہ غیر ملکی دورہ مکمل، وطن واپسی
قانون میں مزید کہا گیا ہے کہ زیر حراست شخص کو گھر کا پکا ہوا کھانا اور اخبارات دینے کی بھی اجازت ہوگی۔ اگر کسی افسر نے اسے اس کے حقوق سے آگاہ نہ کیا تو اس افسر کو جرمانہ اور قید کی سزا دی جا سکے گی۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی ملزم کے ساتھ زیادتی یا انصاف سے محرومی نہ ہو۔
آخری طور پر، اس بل میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی اہلکار زیر حراست افراد کے حقوق کو روکنے کی کوشش کرے، جیسے وکیل، ڈاکٹر یا اہل خانہ تک رسائی نہ دینے دے، تو اسے جرمانہ اور ایک سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون انصاف کے عمل کو شفاف بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری تھا۔











